ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ٹھیک ہونے کے باوجود پاگل خانوں میں رہ رہے ہیں مریض

ٹھیک ہونے کے باوجود پاگل خانوں میں رہ رہے ہیں مریض

Mon, 18 Jul 2016 21:07:19    S.O. News Service

سپریم کورٹ نے چھ ریاستوں سے مانگاجواب

نئی دہلی18جولائی(آئی این ایس انڈیا)ملک کے پاگل خانوں میں رہ رہے ذہنی طور پر ٹھیک ہو چکے مردوں اور عورتوں کی آزادی کی مانگ کو لے کر سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کرکے 6ریاستوں سے جواب مانگاہے۔یوپی، کیرل، راجستھان، میگھالیہ، مغربی بنگال اورجموں وکشمیر سے چارہفتے میں جواب مانگاگیاہے۔اس بارے میں ایک مفاد عامہ کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان ریاستوں میں تقریباََ300افراد ایسے ہیں جو ٹھیک ہو گئے ہیں لیکن وہ ذہنی بیماری ہسپتال میں ہی ہیں۔پیش آمدہ معاملے میں وکیل گوربنسل نے عرضی دائر کی ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دنوں اترپردیش کے بریلی شہر میں واقع ایک پاگل خانے کادورہ کیا تھا۔اسے معلومات ملیں کہ وہاں پر 70-80مرد و خواتین ایسے ہیں جو ٹھیک ہو گئے ہیں، مگر ان کے لواحقین انہیں اپس لینے ہی نہیں آئے۔ایسے میں وہ وہاں علاج کرا رہے پاگل لوگوں کے ساتھ ہی رہ رہے ہیں۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ کچھ ایسی ہی صورت حال ملک کے کئی دیگر پاگل خانوں کی بھی ہے۔ایسے میں اس معاملے کو لے کر خصوصی ہدایات جاری کئے جائیں اور پاگل خانوں میں ٹھیک ہو چکے لوگوں کی بازیابی کیلئے حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ پاگل خانوں میں جن لوگوں کے لواحقین انہیں ملنے یا لینے نہیں آتے، ان کیلئے کچھ بہترکیاجاسکے۔انہیں دوبارہ معاشرے سے جوڑنے کا کام کیاجاسکے۔


Share: